اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس (ردیف .. ا)

جگر مراد آبادی

اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس (ردیف .. ا)

جگر مراد آبادی

MORE BY جگر مراد آبادی

    اب تو یہ بھی نہیں رہا احساس

    درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا

    عشق جب تک نہ کر چکے رسوا

    آدمی کام کا نہیں ہوتا

    ٹوٹ پڑتا ہے دفعتاً جو عشق

    بیشتر دیر پا نہیں ہوتا

    وہ بھی ہوتا ہے ایک وقت کہ جب

    ماسوا ماسوا نہیں ہوتا

    ہائے کیا ہو گیا طبیعت کو

    غم بھی راحت فزا نہیں ہوتا

    دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے

    ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا

    جس پہ تیری نظر نہیں ہوتی

    اس کی جانب خدا نہیں ہوتا

    میں کہ بے زار عمر بھر کے لیے

    دل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا

    وہ ہمارے قریب ہوتے ہیں

    جب ہمارا پتا نہیں ہوتا

    دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے

    جب کوئی آسرا نہیں ہوتا

    ہو کے اک بار سامنا ان سے

    پھر کبھی سامنا نہیں ہوتا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY