اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے

فیض احمد فیض

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے

فیض احمد فیض

MORE BYفیض احمد فیض

    اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے

    جو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

    آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حرام

    اب وہی دشمن دیں راحت جاں ٹھہری ہے

    ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصح

    گفتگو آج سر کوئے بتاں ٹھہری ہے

    ہے وہی عارض لیلیٰ وہی شیریں کا دہن

    نگہ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے

    وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھی

    ہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے

    بکھری اک بار تو ہاتھ آئی ہے کب موج شمیم

    دل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے

    دست صیاد بھی عاجز ہے کف گلچیں بھی

    بوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے

    آتے آتے یوں ہی دم بھر کو رکی ہوگی بہار

    جاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے

    ہم نے جو طرز فغاں کی ہے قفس میں ایجاد

    فیضؔ گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    مأخذ :
    • کتاب : Nuskha Hai Wafa (Pg. 164)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY