اب وہ مہکی ہوئی سی رات نہیں

فضل احمد کریم فضلی

اب وہ مہکی ہوئی سی رات نہیں

فضل احمد کریم فضلی

MORE BYفضل احمد کریم فضلی

    اب وہ مہکی ہوئی سی رات نہیں

    بات کیا ہے کہ اب وہ بات نہیں

    پھر وہی جاگنا ہے دن کی طرح

    رات ہے اور جیسے رات نہیں

    بات اپنی تمہیں نہ یاد رہی

    خیر جانے دو کوئی بات نہیں

    کچھ نہیں ہے تو یاد ہے ان کی

    ان سے ترک تعلقات نہیں

    پھر بھی دل کو بڑی امیدیں ہیں

    گو بہ ظاہر توقعات نہیں

    عشق ہوتا ہے خود بہ خود پیدا

    عشق کے کچھ لوازمات نہیں

    ایسے فضلیؔ کے شعر کم ہوں گے

    جن میں کچھ دل کی واردات نہیں

    مآخذ :
    • کتاب : urdu kii chunii hu.ii gazale.n (Pg. 35)
    • Author : devendra issar
    • مطبع : sahityaa parkaashak maalbaara delhi (1963)
    • اشاعت : 1963

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY