اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے

جمیل الدین عالی

اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    اب یہ کیفیت دل ہے کہ چھپائے نہ بنے

    اور جو وہ پوچھیں کہ کیا ہے تو بتائے نہ بنے

    تم کو آزردگیٔ دل کا مزا کیا معلوم

    کاش تم سے بھی کوئی کام بنائے نہ بنے

    تو نے کیوں ان کو غم زیست دیا ہے یا رب

    جن سے اک رنج محبت بھی اٹھائے نہ بنے

    ہائے کیا پاس محبت ہے کہ تنہائی میں بھی

    اشک آنکھوں میں رہے اور بہائے نہ بنے

    ہم نشیں پوچھ نہ اس بزم کی رسمیں کہ جہاں

    مجھ سے وحشی کو بھی بن ہوش میں آئے نہ بنے

    وقت کی چارہ گری یوں تو مسلم ہے مگر

    زخم بھی وہ ہے کہ تا عمر دبائے نہ بنے

    یہ بھی اک رسم تماشا ہے وہاں اے عالیؔ

    دیکھتے رہیے مگر آنکھ اٹھائے نہ بنے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY