ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

اظہر عنایتی

ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

اظہر عنایتی

MORE BYاظہر عنایتی

    ابھی بچھڑا ہے وہ کچھ روز تو یاد آئے گا

    نقش روشن ہے مگر نقش ہے دھندلائے گا

    گھر سے کس طرح میں نکلوں کہ یہ مدھم سا چراغ

    میں نہیں ہوں گا تو تنہائی میں بجھ جائے گا

    اب مرے بعد کوئی سر بھی نہیں ہوگا طلوع

    اب کسی سمت سے پتھر بھی نہیں آئے گا

    میری قسمت تو یہی ہے کہ بھٹکنا ہے مجھے

    راستے تو مرے ہم راہ کدھر جائے گا

    اپنے ذہنوں میں رچا لیجیے اس دور کا رنگ

    کوئی تصویر بنے گی تو یہ کام آئے گا

    اتنے دن ہو گئے بچھڑے ہوئے اس سے اظہرؔ

    مل بھی جائے گا تو پہچان نہیں پائے گا

    مأخذ :
    • کتاب : jhunka na-e-mausam kaa (Pg. 204)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے