ابھی اس فکر سے نکلا نہیں ہوں

اشفاق حسین

ابھی اس فکر سے نکلا نہیں ہوں

اشفاق حسین

MORE BYاشفاق حسین

    ابھی اس فکر سے نکلا نہیں ہوں

    میں کیا ہوں اور آخر کیا نہیں ہوں

    مجھے تم میرے موسم ہی میں پڑھنا

    نصاب نسل آئندہ نہیں ہوں

    وفاداری کناروں سے جو بدلے

    میں دریاؤں کا وہ رستہ نہیں ہوں

    جو دل کی دھڑکنوں کی ہم نوا ہے

    اسی آواز پر پلٹا نہیں ہوں

    بہت سے مسئلے ہیں زندگی میں

    مگر تجھ کو تو میں بھولا نہیں ہوں

    میں تیری دسترس میں تو نہیں تھا

    ترے امکان میں بھی کیا نہیں ہوں

    بہت سوچا ترے نزدیک آ کر

    میں تیرے پاس ہوں بھی یا نہیں ہوں

    جو دنیا تجھ سے واقف ہی نہیں ہے

    میں اس دنیا کا باشندہ نہیں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY