ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا

مظفر رزمی

ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا

مظفر رزمی

MORE BY مظفر رزمی

    ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا

    مری بستی میں ہنگاموں کا اندازہ نہیں ہوتا

    جدھر محسوس ہو خوشبو اسی جانب بڑھے جاؤ

    اندھیری رات میں رستوں کا اندازہ نہیں ہوتا

    جو صدیوں کی کسک لے کر گزر جاتے ہیں دنیا سے

    مورخ کو بھی ان لمحوں کا اندازہ نہیں ہوتا

    یہ رہبر ہیں کہ رہزن ہیں مسیحا ہیں کہ قاتل ہیں

    ہمیں اپنے نمائندوں کا اندازہ نہیں ہوتا

    نظر ہو لاکھ گہری اور بصیرت آشنا پھر بھی

    نقابوں میں کبھی چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا

    زمیں پر آؤ پھر دیکھو ہماری اہمیت کیا ہے

    بلندی سے کبھی ذروں کا اندازہ نہیں ہوتا

    وفاؤں کے تسلسل سے بھی اکثر ٹوٹ جاتے ہیں

    محبت کے حسیں رشتوں کا اندازہ نہیں ہوتا

    اتر جاتے ہیں روح و دل میں کتنی وسعتیں لے کر

    غزل کے دل ربا لہجوں کا اندازہ نہیں ہوتا

    سلیقے سے سجانا آئینوں کو ورنہ اے رزمیؔ

    غلط رخ ہو تو پھر چہروں کا اندازہ نہیں ہوتا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    ابھی خاموش ہیں شعلوں کا اندازہ نہیں ہوتا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY