اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا

محسن اسرار

اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا

محسن اسرار

MORE BY محسن اسرار

    اچھا ہے وہ بیمار جو اچھا نہیں ہوتا

    جب تجربے ہوتے ہیں تو دھوکا نہیں ہوتا

    جس لفظ کو میں توڑ کے خود ٹوٹ گیا ہوں

    کہتا بھی تو وہ اس کو گوارا نہیں ہوتا

    تیری ہی طرح آتا ہے آنکھوں میں ترا خواب

    سچا نہیں ہوتا کبھی جھوٹا نہیں ہوتا

    تکذیب جنوں کے لیے اک شک ہی بہت ہے

    بارش کا سمے ہو تو ستارا نہیں ہوتا

    کیا کیا در و دیوار مری خاک میں گم ہیں

    پر اس کو مرا جسم گوارا نہیں ہوتا

    یا دل نہیں ہوتا مرے ہونے کے سبب سے

    یا دل کے سبب سے مرا ہونا نہیں ہوتا

    کس رخ سے تیقن کو طبیعت میں جگہ دیں

    ایسا نہیں ہوتا کبھی ویسا نہیں ہوتا

    ہم لوگ جو کرتے ہیں وہ ہوتا ہی نہیں ہے

    ہونا جو نظر آتا ہے ہونا نہیں ہوتا

    جس دن کے گزرتے ہی یہاں رات ہوئی ہے

    اے کاش وہ دن میں نے گزارا نہیں ہوتا

    جب ہم نہیں ہوتے یہاں آتے ہیں تغیر

    جب ہم یہاں ہوتے ہیں زمانا نہیں ہوتا

    ہم ان میں ہیں جن کی کوئی ہستی نہیں ہوتی

    ہم ٹوٹ بھی جائیں تو تماشا نہیں ہوتا

    مآخذ:

    • Book: shor bhi sannata bhi (rekhta website) (Pg. 114)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites