ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

ارشد علی خان قلق

ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

ارشد علی خان قلق

MORE BYارشد علی خان قلق

    ادا سے دیکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

    بس اک نگاہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

    ستم وہ تم نے کیے بھولے ہم گلہ دل کا

    ہوا تمہارے بگڑنے سے فیصلہ دل کا

    بہار آتے ہی کنج قفس نصیب ہوا

    ہزار حیف کہ نکلا نہ جو صلہ دل کا

    جو یہ نشانہ اڑا دو تو سمجھیں تیر فگن

    بہت ہے ناوک مژگاں سے فاصلہ دل کا

    الٰہی خیر ہو کچھ آج رنگ بے ڈھب ہے

    ٹپک رہا ہے کئی دن سے آبلہ دل کا

    چلا ہے چھوڑ کے تنہا کدھر تصور یار

    شب فراق میں تھا تجھ سے مشغلہ دل کا

    وہ رند ہوں کہ مجھے ہتھکڑی سے بیعت ہے

    بلا ہے گیسوئے جاناں سے سلسلہ دل کا

    پھرا جو کوچۂ کاکل سے کوئی پوچھیں گے

    سنا ہے لٹ گیا رستہ میں قافلہ دل کا

    امید صبح میں کرتا ہوں چاک دامن شب

    جنوں میں روز نکالا ہے مشغلہ دل کا

    وہ ظلم کرتے ہیں ہم پر تو لوگ کہتے ہیں

    خدا برے سے نہ ڈالے معاملہ دل کا

    ہزار فصل گل آئے جنوں وہ جوش کہاں

    گیا شباب کے ہم راہ ولولہ دل کا

    خدا کے ہاتھ ہے اپنا اب اے قلقؔ انصاف

    بتوں سے حشر میں ہوگا مقابلہ دل کا

    مأخذ :
    • Mazhar-e-Ishq

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY