اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل

مفتی صدرالدین آزردہ

اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل

مفتی صدرالدین آزردہ

MORE BYمفتی صدرالدین آزردہ

    اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابل

    تو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابل

    کروں چاک سینہ تو سو بار لیکن

    نہیں داغ دل یہ دکھانے کے قابل

    ملیں تم سے کیونکر رہے ہی نہیں ہم

    بلانے کے قابل نہ آنے کے قابل

    چھٹے بھی قفس سے تو کس کام کے ہیں

    نہیں جب چمن تک بھی جانے کے قابل

    بجز اس کے تھے خاک پہلے بھی اے چرخ

    نہ تھے خاک میں پھر ملانے کے قابل

    کیا ترک دنیا میں جب تو یہ سمجھے

    کہ دنیا نہیں دل لگانے کے قابل

    وہ آئے دم نزع کیا کہہ سکیں

    نہیں ہونٹ تک بھی ہلانے کے قابل

    خدایا یہ رنج اور یہ ناصبوری

    نہ تھے ہم تو اس آزمانے کے قابل

    رہے ہم نہ کچھ مصطفیٰ خاں کے غم میں

    نہ فکر سخن نے پڑھانے کے قابل

    نہ چھوڑیں گے محبوب الٰہی کے در کو

    نہیں گو ہم اس آستانے کے قابل

    ہمیں قید کرنے سے کیا نفع صیاد

    نہ تھے دام میں ہم تو لانے کے قابل

    نہ بال منقش نہ پرہائے رنگیں

    نہ آواز خوش کے سنانے کے قابل

    ہوئے ہیں وہ ناقابلوں میں شمار اب

    جنہیں مانتے تھے زمانے کے قابل

    وہ آزردہؔ جو خوش بیاں تھے نہیں اب

    اشارے سے بھی کچھ بتانے کے قابل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY