اگر ہو چشم حقیقت تو دیکھ کیا ہوں میں

غواص قریشی

اگر ہو چشم حقیقت تو دیکھ کیا ہوں میں

غواص قریشی

MORE BYغواص قریشی

    اگر ہو چشم حقیقت تو دیکھ کیا ہوں میں

    فنا کے رنگ میں اک جوہر بقا ہوں میں

    طلسم بند سے مشکل رہائی ہے دل کی

    حصار‌ چشم فسوں ساز میں گھرا ہوں میں

    مٹا مٹا کے مجھے ایک دن مٹا دے گا

    زمانہ ساز تری چال جانتا ہوں میں

    کمال عشق تصور ہے اوج پر ایسا

    ترے جمال کو ہر شے میں دیکھتا ہوں میں

    مری تلاش میں گم ہیں مسافران عدم

    حدود وہم سے آگے نکل گیا ہوں میں

    تلاش جس کی ہے ہر اک کو میں وہ منزل ہوں

    جو طے نہ کر سکے کوئی وہ مرحلہ ہوں میں

    تلاش جس کی مجھے کھو چکی ہے اے غواصؔ

    اسی کو بحر تحیر میں ڈھونڈھتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY