اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے

جمیل الدین عالی

اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے

جمیل الدین عالی

MORE BYجمیل الدین عالی

    اگلی گلی میں رہتا ہے اور ملنے تک نہیں آتا ہے

    کہتا ہے تکلف کیا کرنا ہم تم میں تو پیار کا ناتا ہے

    کہتا ہے زیادہ ملنے سے وعدوں کی خلش بڑھ جائے گی

    کچھ وعدے وقت پہ بھی چھوڑو دیکھو وہ کیا دکھلاتا ہے

    کہتا ہے تمہارا دوش نہ تھا کچھ ہم کو بھی اپنا ہوش نہ تھا

    پھر ہنستا ہے پھر روتا ہے پھر چپ ہو کر رہ جاتا ہے

    خود اس سے کہا گھر آنے کو اور اس کے بنا مر جانے کو

    اور اب جو وہ کچھ آوارہ ہوا جی رہ رہ کر گھبراتا ہے

    اے بچو اے ہنسنے والو تاریخ محبت پڑھ ڈالو

    دل والے کے دل پر قید نہیں ہر عمر میں ٹھوکر کھاتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY