اہل ہوس کے ہاتھوں نہ یہ کاروبار ہو

حسن نجمی سکندرپوری

اہل ہوس کے ہاتھوں نہ یہ کاروبار ہو

حسن نجمی سکندرپوری

MORE BYحسن نجمی سکندرپوری

    اہل ہوس کے ہاتھوں نہ یہ کاروبار ہو

    آباد ہوں ستارے زمیں ریگزار ہو

    اک شان یہ بھی جینے کی ہے جی رہے ہیں لوگ

    طوفان سے لگاؤ سمندر سے پیار ہو

    حالات میں کبھی یہ توازن دکھائی دے

    غم مستقل رہے نہ خوشی مستعار ہو

    نفرت کے سنگ ریزوں کی بارش تھمے کبھی

    دیر و حرم کے بیچ سفر خوش گوار ہو

    صدیوں سے گھل رہی ہے اسی فکر میں حیات

    رہزن سے پاک زیست کی ہر رہ گزار ہو

    باد سموم لوٹ لے چہروں کی تازگی

    اگلی صدی کی ایسی نہ فصل بہار ہو

    نجمیؔ جو اپنے عہد کی تاریخ بن گئے

    ان شاعروں میں کاش مرا بھی شمار ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY