اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

مومن خاں مومن

اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    اے آرزوئے قتل ذرا دل کو تھامنا

    مشکل پڑا مرا مرے قاتل کو تھامنا

    تاثیر بیقراری ناکام آفریں

    ہے کام ان سے شوخ شمائل کو تھامنا

    دیکھے ہے چاندنی وہ زمیں پر نہ گر پڑے

    اے چرخ اپنے تو مہ کامل کو تھامنا

    مضطر ہوں کس کا طرز سخن سے سمجھ گیا

    اب ذکر کیا ہے سامع عاقل کو تھامنا

    ہو صرصر فغاں سے نہ کیونکر وہ مضطرب

    مشکل ہوا ہے پردۂ محمل کو تھامنا

    سیکھے ہیں مجھ سے نالۂ نے آسماں شکن

    صیاد اب قفس میں عنادل کو تھامنا

    یہ زلف خم بہ خم نہ ہو کیا تاب غیر ہے

    تیرے جنوں زدے کی سلاسل کو تھامنا

    اے ہمدم آہ تلخی ہجراں سے دم نہیں

    گرتا ہے دیکھ جام ہلاہل کو تھامنا

    سیماب وار مر گئے ضبط قلق سے ہم

    کیا قہر ہے طبیعت مائل کو تھامنا

    آغوش گور ہو گئی آخر لہولہان

    آساں نہیں ہے آپ کے بسمل کو تھامنا

    سینہ پہ ہاتھ دھرتے ہی کچھ دم پہ بن گئی

    لو جان کا عذاب ہوا دل کو تھامنا

    باقی ہے شوق چاک گریباں ابھی مجھے

    بس اے رفوگر اپنی انامل کو تھامنا

    مت مانگیو امان بتوں سے کہ ہے حرام

    مومنؔ زبان بیہودہ سائل کو تھامنا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY