اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھے

حفیظ میرٹھی

اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھے

حفیظ میرٹھی

MORE BYحفیظ میرٹھی

    INTERESTING FACT

    اہلیہ کے سانحۂ_قتل پر

    اے دل خوشی کا ذکر بھی کرنے نہ دے مجھے

    غم کی بلندیوں سے اترنے نہ دے مجھے

    گھر ہی اجڑ گیا ہو تو لطف قیام کیا

    اے گردش مدام ٹھہرنے نہ دے مجھے

    مقصد یہ ہے سکوں کسی صورت نہ ہو نصیب

    اے چارہ ساز بات بھی کرنے نہ دے مجھے

    چہرے پہ کھال تک بھی نہ چھوڑیں گے بد نگاہ

    اے میرے خیر خواہ سنورنے نہ دے مجھے

    ہے دیکھنے کی چیز جو بسمل کا رقص بھی

    دنیا یہ چاہتی ہے کہ مرنے نہ دے مجھے

    یہ دور سنگ دل ہی نہیں تنگ دل بھی ہے

    گر بس چلے تو آہ بھی کرنے نہ دے مجھے

    اب بھی یہ حوصلہ ہے کہ کچھ کام آ سکوں

    میں ٹوٹ تو گیا ہوں بکھرنے نہ دے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY