اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھا

راجیندر منچندا بانی

اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھا

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    اے دوست میں خاموش کسی ڈر سے نہیں تھا

    قائل ہی تری بات کا اندر سے نہیں تھا

    ہر آنکھ کہیں دور کے منظر پہ لگی تھی

    بیدار کوئی اپنے برابر سے نہیں تھا

    کیوں ہاتھ ہیں خالی کہ ہمارا کوئی رشتہ

    جنگل سے نہیں تھا کہ سمندر سے نہیں تھا

    اب اس کے لئے اس قدر آسان تھا سب کچھ

    واقف وہ مگر سعی مکرر سے نہیں تھا

    موسم کو بدلتی ہوئی اک موج ہوا تھی

    مایوس میں بانیؔ ابھی منظر سے نہیں تھا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY