اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے

آرزو لکھنوی

اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے

آرزو لکھنوی

MORE BYآرزو لکھنوی

    اے جذب محبت تو ہی بتا کیوں کر نہ اثر لے دل ہی تو ہے

    سیدھی بھی چھری ٹیڑھی بھی چھری دل دوز نظر قاتل ہی تو ہے

    جب ہوک اٹھے گی تڑپے گا انصاف نہ چھوڑو دل ہی تو ہے

    ناچند تھکن کا صبر و سکوں بسمل آخر بسمل ہی تو ہے

    طوفان بلا کی موجوں میں کیں بند آنکھیں اور پھاند پڑے

    کشتی نے جہاں ٹکر کھائی دل بول اٹھا ساحل ہی تو ہے

    ہے ظرف یہاں کس کا کتنا دل بس ہے اسی کا پیمانہ

    رونا بھی برا ہنسنا بھی برا جو بات ہے وہ مشکل ہی تو ہے

    ناخوش ہے تو کیا ہے خوش ہے تو کیا جیسا بھی سہی ہے تو اپنا

    یہ ساتھ نہیں چھٹنے والا بے کس کا سہارا دل ہی تو ہے

    ہیں موت کے اس جینے میں مزے غم جس کو نہ ہو وہ کیا سمجھے

    جب ثابت کرتے بن نہ پڑے جو دعویٰ ہے باطل ہی تو ہے

    تھی خضر طریق افتاد یہاں اور سنگ حوادث سنگ نشاں

    حد راہ طلب کی آ گئی ہاں جاتا ہے کہاں منزل ہی تو ہے

    دکھ دے کے الٹے دینا کیا فریاد نتیجہ ہے غم کا

    جب ٹھیس لگی شیشہ ٹھنکا پتھر نہ سمجھئے دل ہی تو ہے

    آپ آرزوؔ اب خاموش رہیں کچھ اچھی بری کھل کر نہ کہیں

    ہیں جتنے منہ اتنی باتیں محفل آخر محفل ہی تو ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY