ایسے میں روز روز کوئی ڈھونڈتا مجھے

بمل کرشن اشک

ایسے میں روز روز کوئی ڈھونڈتا مجھے

بمل کرشن اشک

MORE BYبمل کرشن اشک

    ایسے میں روز روز کوئی ڈھونڈتا مجھے

    آواز دے رہی تھی ادھر کی ہوا مجھے

    ایسا ہوا کہ گھر سے نہ نکلا تمام دن

    جیسے کہ خود سے آج کوئی کام تھا مجھے

    پردے کے آس پاس کوئی باغ ہی نہ ہو

    کھڑکی کھلی تو پھول کا دھوکا ہوا مجھے

    یہ پیڑ جس پہ پھول نہ پتی نہ ٹہنیاں

    دس بیس سال بعد جو خود سا لگا مجھے

    میں آج بھی وہی ہوں وفا تھی جسے عزیز

    فرصت ملے تو آ کے کبھی دیکھ جا مجھے

    آنکھوں میں دل اتر پڑا آئینہ دیکھ کر

    آیا تھا اک خیال بہت دور کا مجھے

    یہ فکر آ پڑی ہے کہ بدلے گئے نہ ہوں

    سائے سے کہہ رہا ہوں ذرا دیکھنا مجھے

    کہتے ہیں یار دوست اگر بے وفا کہیں

    اے اشکؔ آنسوؤں نے بھی کیا دے دیا مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY