ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ

شہباز خواجہ

ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ

شہباز خواجہ

MORE BYشہباز خواجہ

    ایسے رکھتی ہے ہمیں تیری محبت زندہ

    جس طرح جسم کو سانسوں کی حرارت زندہ

    شوق کی راہ میں اک ایسا بھی پل آتا ہے

    جس میں ہو جاتی ہے صدیوں کی ریاضت زندہ

    روز اک خوف کی آواز پہ ہم اٹھتے ہیں

    روز ہوتی ہے دل و جاں میں قیامت زندہ

    اب بھی انجان زمینوں کی کشش کھینچتی ہے

    اب بھی شاید ہے لہو میں کہیں ہجرت زندہ

    طاعت جبر بہت عام ہوئی جاتی تھی

    ایک انکار نے کی رسم بغاوت زندہ

    ہم تو مر کر بھی نہ باطل کو سلامی دیں گے

    کیسے ممکن ہے کہ کر لیں تری بیعت زندہ

    ہم میں سقراط تو کوئی نہیں پھر بھی شہبازؔ

    زہر پی لیتے ہیں رکھتے ہیں روایت زندہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY