عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں

مضطر خیرآبادی

عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں

مضطر خیرآبادی

MORE BYمضطر خیرآبادی

    عیش کے رنگ ملالوں سے دبے جاتے ہیں

    اب تو ہم اپنے ہی حالوں سے دبے جاتے ہیں

    پاؤں رکھنا مجھے صحرا میں بھی دشوار ہے اب

    سارے کانٹے مرے چھالوں سے دبے جاتے ہیں

    توبہ توبہ وہ مرے خواب میں کیا آئیں گے

    جاگتے میں جو خیالوں سے دبے جاتے ہیں

    اللہ اللہ ری نزاکت ترے رخساروں کی

    اتنے نازک ہیں کہ کھالوں سے دبے جاتے ہیں

    تو ہے کوٹھے پہ تو کترا کے نکلتی ہے گھٹا

    کالے بادل ترے بالوں سے دبے جاتے ہیں

    کیا دبائیں گے ابھر کر ترے جوبن ظالم

    یہ تو خود دیکھنے والوں سے دبے جاتے ہیں

    ان کو اے شوق طلب چھیڑ کے محجوب نہ کر

    جو محبت کے خیالوں سے دبے جاتے ہیں

    بے طرح بار محبت تو پڑا ہے ان پر

    آپ کیوں چاہنے والوں سے دبے جاتے ہیں

    بار ہوں دیدۂ ارباب سخن پر مضطرؔ

    مدعی میرے کمالوں سے دبے جاتے ہیں

    مأخذ :
    • کتاب : Khirman (Part-1) (Pg. 219)
    • Author : Muztar Khairabadi
    • مطبع : Javed Akhtar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY