ایسی ہوئی سرسبز شکایت کی کڑی بات

منیرؔ  شکوہ آبادی

ایسی ہوئی سرسبز شکایت کی کڑی بات

منیرؔ  شکوہ آبادی

MORE BYمنیرؔ  شکوہ آبادی

    ایسی ہوئی سرسبز شکایت کی کڑی بات

    سبزے کی طرح کان میں اس گل کی پڑی بات

    کیوں کر دہن تنگ سے ظاہر ہو کڑی بات

    منہ آپ کا چھوٹا ہے نہ نکلے گی بڑی بات

    گل رنگ ترے ہونٹھ ہوے بار سخن سے

    اے جان اڑا لے گئی مسی کی دھڑی بات

    تیرے سخن سخت میں ہے حسن نزاکت

    کانوں کو ہوئی پنبۂ مہتاب کڑی بات

    اس پیچ سے تم مجھ کو اڑاتے ہو دم نطق

    زنجیر رم ہوش کی بنتی ہے کڑی بات

    تقریر تری شاخ گل تازہ ہے اے مست

    دیتی ہے کف بادہ میں پھولوں کی چھڑی بات

    وصف در دنداں سے یہ بڑھ جاتے ہیں رتبے

    رگ رگ کو بنا دیتی ہے موتی کی لڑی بات

    ہر کان ہوا ہے سبد گل سے زیادہ

    کیا پھول کے مانند ترے منہ سے جھڑی بات

    دھوتا ہے سخن دل سے غبار غم دنیا

    ہے گرد الم کے لئے ساون کی جھڑی بات

    کیا مہر بنائی ترے یاقوت سخن کی

    مانند نگیں ہم نے انگوٹھی میں جڑی بات

    نقد سخن پاک دیا گرد قلق میں

    گنجینہ کے مانند تہ خاک گڑی بات

    جس روز میں گنتا ہوں ترے آنے کی گھڑیاں

    سورج کو بنا دیتی ہے سونے کی گھڑی بات

    استاد کے احسان کا کر شکر منیرؔ آج

    کی اہل سخن نے تری تعریف بڑی بات

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY