ایسی کسک تھی آنکھ سے آنسو گرا نہ تھا

ساجد صفدر

ایسی کسک تھی آنکھ سے آنسو گرا نہ تھا

ساجد صفدر

MORE BYساجد صفدر

    ایسی کسک تھی آنکھ سے آنسو گرا نہ تھا

    اس بار میرا درد بھی میری دوا نہ تھا

    بے چین روح چین سے بیٹھی نہ ایک پل

    جب تک مرے وہ جسم میں داخل ہوا نہ تھا

    احسان روشنی کا ہی رہتا تمام عمر

    ورنہ ترے چراغ سے مجھ کو گلہ نہ تھا

    اس راستے پہ منزلیں میں نے تلاش کیں

    جس راستے پہ کوئی کہیں نقش پا نہ تھا

    میں ڈر رہا ہوں آج کہ اس کے جمال پر

    رنگ حیا تو خوب تھا رنگ وفا نہ تھا

    دل نے کسی طرح کی پرستش نہ کی قبول

    وہ شخص بے مثال تھا لیکن خدا نہ تھا

    اس نے بھی گھر بنائے تھے کتنوں کے ذہن میں

    ساجدؔ اسے تو سوچنے والا نیا نہ تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY