ایسی تشبیہ فقط حسن کی بدنامی ہے

زیبا

ایسی تشبیہ فقط حسن کی بدنامی ہے

زیبا

MORE BYزیبا

    ایسی تشبیہ فقط حسن کی بدنامی ہے

    ماہ عارض کو لکھا خامے کی یہ خامی ہے

    رنگ یہ ان کی صباحت نے عجب دکھلایا

    سرخ جوڑے پہ گماں ہوتا ہے بادامی ہے

    کہتے پھرتے ہو برا مجھ کو یہ بات اچھی نہیں

    میری رسوائی میں صاحب کی بھی بدنامی ہے

    آپ کی باتوں سے دل پک گیا جب کہتا ہوں میں

    ہنس کے کہتے ہیں یہ الفت کی فقط خامی ہے

    چومتا ہے کوئی آنکھوں سے لگاتا ہے کوئی

    ہے لباس آپ کا یا جامۂ احرامی ہے

    نہیں ڈگنے کا قدم راہ وفا سے اپنا

    جو ستم چاہو کرو صبر مرا حامی ہے

    آپ کی عشق کی ایذا میں ہے لطف و راحت

    آپ پر ختم مری جان دل آرامی ہے

    ہم اکیلے نہیں رہتے شب تنہائی میں

    یاس و اندوہ و غم و حسرت و ناکامی ہے

    دل کو ابرو ہیں پسند آنکھ کو چشم مے گوں

    کوئی دنیا میں ہلالی ہے کوئی جامی ہے

    لوح قرآں جو کہا ان کی جبیں کو زیباؔ

    اس میں کچھ شک نہیں تشبیہ یہ الحامی ہے

    مآخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY