ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی

عبید اللہ علیم

ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی

عبید اللہ علیم

MORE BYعبید اللہ علیم

    ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی

    لیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھی

    اس کی شان عجیب کا منظر دیکھنے والا ہے

    اک ایسا خورشید کہ جس نے رات نہیں دیکھی

    بستر پر موجود رہے اور سیر ہفت افلاک

    ایسی کسی پر رحمت کی برسات نہیں دیکھی

    اس کی آل وہی جو اس کے نقش قدم پر

    صرف ذات کی ہم نے آل سادات نہیں دیکھی

    ایک شجر ہے جس کی شاخیں پھیلتی جاتی ہیں

    کسی شجر میں ہم نے ایسی بات نہیں دیکھی

    اک دریائے رحمت ہے جو بہتا جاتا ہے

    یہ شان برکات کسی کے ساتھ نہیں دیکھی

    شاہوں کی تاریخ بھی ہم نے دیکھی ہے لیکن

    اس کے در کے گداؤں والی بات نہیں دیکھی

    اس کے نام پہ ماریں کھانا اب اعزاز ہمارا

    اور کسی کی یہ عزت اوقات نہیں دیکھی

    صدیوں کی اس دھوپ چھاؤں میں کوئی ہمیں بتلائے

    پوری ہوئی کون سی اس کی بات نہیں دیکھی

    اہل زمیں نے کون سا ہم پر ظلم نہیں ڈھایا

    کون سی نصرت ہم نے اس کے ہاتھ نہیں دیکھی

    مأخذ :
    • کتاب : Veeran sarai ka diya (Pg. 85)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY