عجب اک بات اس کی بات میں تھی

خالد محمود ذکی

عجب اک بات اس کی بات میں تھی

خالد محمود ذکی

MORE BYخالد محمود ذکی

    عجب اک بات اس کی بات میں تھی

    کہ خوشبو پیڑ کے ہر پات میں تھی

    تمہیں ہم سے محبت کا گلا تھا

    محبت کب ہمارے ہاتھ میں تھی

    یہ ایسے تھے کہ خوش آتے بہت تھے

    کوئی خوشبو انہی دن رات میں تھی

    عجب موسم تمہارے بعد آئے

    عجب بے رونقی برسات میں تھی

    اندھیرے میں نظر آنے لگا تھا

    کوئی تو روشنی ظلمات میں تھی

    گئے وقتوں میں ایسا تو نہیں تھا

    یہی دنیا تھی اور اوقات میں تھی

    کہیں تو وقت جیسے رک گیا تھا

    کہیں پر عمر بھی لمحات میں تھی

    ہوا تھا واقعہ کچھ اور لیکن

    خبر کچھ اور اخبارات میں تھی

    بہت تھی دھوپ میں شدت بھی خالدؔ

    مگر تلخی جو احساسات میں تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے