عجیب خامشی ہے غل مچاتی رہتی ہے

رفیق راز

عجیب خامشی ہے غل مچاتی رہتی ہے

رفیق راز

MORE BYرفیق راز

    عجیب خامشی ہے غل مچاتی رہتی ہے

    یہ آسمان ہی سر پر اٹھاتی رہتی ہے

    کیا ہے عشق تو ثابت قدم بھی رہنا سیکھ

    میاں یہ ہجر کی آفت تو آتی رہتی ہے

    یہ جو ہے آج خرابہ کبھی چمن تھا کیا

    یہاں تو ایک مگس بھنبھناتی رہتی ہے

    ڈرو نہیں یہ کوئی سانپ زیر کاہ نہیں

    ہوا ہے اور وہی سرسراتی رہتی ہے

    مرے ہی واسطے منظر ظہور کرتے ہیں

    مری ہی آنکھ یہاں جگمگاتی رہتی ہے

    ہوا اگرچہ بہت تیز ہے مگر پھر بھی

    میں خاک ہوں یہ مرے کام آتی رہتی ہے

    یہ کیسی چشم تخیل ہے اونگھتی بھی نہیں

    عجیب رنگ کے منظر بناتی رہتی ہے

    وہ اک نگاہ بھی نیزے سے کم نہیں یعنی

    ہمارے خون جگر میں نہاتی رہتی ہے

    قدم بھی خاک پہ کرتے ہیں کچھ نہ کچھ تحریر

    ہوا کی موج بھی اس کو مٹاتی رہتی ہے

    مأخذ :
    • کتاب : Nakhl-e-Aab (Pg. 232)
    • Author : Rafeeq Raaz
    • مطبع : Takbeer Publications, Srinagar (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے