عکس جل جائیں گے آئینے بکھر جائیں گے

اسلم محمود

عکس جل جائیں گے آئینے بکھر جائیں گے

اسلم محمود

MORE BYاسلم محمود

    عکس جل جائیں گے آئینے بکھر جائیں گے

    خواب ان جاگتی آنکھوں میں ہی مر جائیں گے

    ہم کہ دل دادہ کہاں رونق بازار کے ہیں

    بے نیازانہ ہی دنیا سے گزر جائیں گے

    جن کو دستار کی خواہش ہے انہیں کیا معلوم

    معرکہ اب کے وہ ٹھہرا ہے کہ سر جائیں گے

    کوئی منزل نہیں رستے ہیں فقط چاروں طرف

    جو نکل آئے ہیں گھر سے وہ کدھر جائیں گے

    دیکھ آ کر کہ ترے ہجر میں بھی زندہ ہیں

    تجھ سے بچھڑے تھے تو لگتا تھا کہ مر جائیں گے

    ہم کہ شرمندۂ اسباب نہیں ہونے کے

    حکم جب ہوگا تو بے رخت سفر جائیں گے

    ہم سے دریا جو گریزاں ہے تو ہم بھی اک دن

    کسی تپتے ہوئے صحرا میں اتر جائیں گے

    ہم کو دریا سے نہ موجوں سے نہ کشتی سے غرض

    اب کے اس پار ہمیں لے کے بھنور جائیں گے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY