اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہے

قیصر قلندر

اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہے

قیصر قلندر

MORE BYقیصر قلندر

    اندیشوں کے شہر میں رہنا تیری میری عادت ہے

    محرومی کے صدمے سہنا تیری میری عادت ہے

    ارمانوں کی نازک مالائیں پہنانا شاموں کو

    یاد پون کے ساتھ ہی بہنا تیری میری عادت ہے

    خوب سلگتے جانا برفیلے لمحوں کے سایوں میں

    دکھ کا ایک بھی لفظ نہ کہنا تیری میری عادت ہے

    خوابوں سے بہلانا دل کو ہو جانا بے حد مسرور

    لوگوں کی تعبیریں سہنا تیری میری عادت ہے

    صبح ارادے دن تدبیریں شام خلش اور شب تشویش

    ہر حالت میں زندہ رہنا تیری میری عادت ہے

    قرب قیصرؔ بے بس ہونا دوری کا سہہ لینا روگ

    جینے کی روداد نہ کہنا تیری میری عادت ہے

    موضوعات:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY