اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے

آزاد حسین آزاد

اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے

آزاد حسین آزاد

MORE BYآزاد حسین آزاد

    اندھیرے دور کرے نور سے اجالے مجھے

    کوئی تو ہو جو ترے بعد بھی سنبھالے مجھے

    میں مر رہا ہوں مگر سانس دے رہے ہیں بہم

    تمہاری ذات سے منسوب کچھ حوالے مجھے

    یہ رود خواب نہیں مخمصے کا دریا ہے

    ڈبوئے عشق کبھی جوش میں اچھالے مجھے

    ابھی میں ریل کی پٹری سے دور بیٹھا ہوں

    ابھی ہے وقت اگر ہو سکے منا لے مجھے

    نہیں ہے یاد مجھے نام ہاں مگر آنکھیں

    شراب بھول چکا یاد ہیں پیالے مجھے

    میں سونپ دوں اسے انعام میں بچی سانسیں

    مرے وجود کے ملبے سے جو نکالے مجھے

    نشان میل کی رنگینیوں کے صدقے ہوئے

    بہت عزیز ہیں پاؤں کے سارے چھالے مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY