اپنا انداز جنوں سب سے جدا رکھتا ہوں میں

حمایت علی شاعر

اپنا انداز جنوں سب سے جدا رکھتا ہوں میں

حمایت علی شاعر

MORE BYحمایت علی شاعر

    اپنا انداز جنوں سب سے جدا رکھتا ہوں میں

    چاک دل چاک گریباں سے سوا رکھتا ہوں میں

    غزنوی ہوں اور گرفتار‌‌ خم زلف ایاز

    بت شکن ہوں اور دل میں بت کدہ رکھتا ہوں میں

    ہے خود اپنی آگ سے ہر پیکر گل تابناک

    لے ہوا کی زد پہ مٹی کا دیا رکھتا ہوں میں

    میں کہ اپنی قبر میں بھی زندہ ہوں گھر کی طرح

    ہر کفن کو اپنے گرد احرام سا رکھتا ہوں میں

    دشت غربت میں ہوں آوارہ مثال گرد باد

    کوئی منزل ہے نہ کوئی نقش پا رکھتا ہوں میں

    میرا سایہ بھی نہیں میرا اجالے کے بغیر

    اور اجالے کا تصور خواب سا رکھتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے