اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا

امام بخش ناسخ

اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    اپنے ابرو آئنے میں دیکھ کر بسمل ہوا

    کھینچ کر تلوار اپنا آپ وہ قاتل ہوا

    بھاگ کر کب تجھ سے جاں بر کوئی اے قاتل ہوا

    اڑ چلا گر ہوش اپنا طائر بسمل ہوا

    اب کہاں نالے کہ اس لیلیٰ کا مسکن دل ہوا

    تھا جرس جو پیش ازیں وہ ان دنوں محمل ہوا

    نام نیک اہل حکومت کو کہاں حاصل ہوا

    خلق میں مشہور اک نوشیرواں عادل ہوا

    سر سے پا تک ہر صنوبر ہی فقط کیا دل ہوا

    دیکھ کر اس سرو قد کو سرو بھی مائل ہوا

    اس ادا سے باڑھ دیکھی آپ نے تلوار کی

    طائر رنگ حنا بھی طائر بسمل ہوا

    دھیان اس کے بند کرنے کا اگر آتا تجھے

    کیوں نہ تیرا رخنۂ در میرا چاک دل ہوا

    ہے یہ غم جانکاہ خال ابروئے خم دار کا

    کعبے میں کاہیدہ ہو کر سنگ اسود دل ہوا

    جو یہاں مغلوب ہے عقبیٰ میں غالب ہے وہی

    مرکب مقتول ہے اک روز جو قاتل ہوا

    دھوئے ہیں دھوبی نے دریا میں جو کپڑے یار کے

    آج کوسوں تک معطر دامن ساحل ہوا

    دلبری کا جب ہوا اس سرو قامت کو خیال

    عضو عضو اپنا وہیں مثل صنوبر دل ہوا

    سب کے خالق نے بنائے کاسۂ سر واژگوں

    آدمی اس پر بھی پیش آدمی سائل ہوا

    بجھ گیا میرا چراغ داغ وصل یار میں

    نور مہ نزدیکیٔ خورشید سے زائل ہوا

    جو پری رو بیٹھتا ہے آ کے اٹھ سکتا نہیں

    اب تو نقش بوریا کا خوب میں عامل ہوا

    جذب جنسیت بہم رہنے نہیں دیتا فراق

    کل بنا جو جسم خاکی آج گل در گل ہوا

    ہائے کس قاتل ادا سے کی شروع اس نے نماز

    نکلی جب تکبیر اس کے منہ سے میں بسمل ہوا

    کہتے ہیں زاہد مری دیوانگی کو دیکھ کر

    بت پرستی کے سبب قہر خدا نازل ہوا

    جب تصور یار کا باندھا ہم آپ آئے نظر

    سامنے آنکھوں کے آئینہ ہمارا دل ہوا

    عاشق بے ننگ سے ہوتا ہے معشوقوں کو ننگ

    پیرہن مجنوں کا پھٹ کر پردۂ محمل ہوا

    سامنے میرے رہا گر شام سے لے تا سحر

    حسن میں گر مثل ماہ چاردہ کامل ہوا

    روح ناسخؔ ہے اسی کی روح اقدس پر نثار

    بارہا جس کے لیے روح القدس نازل ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY