اپنے اندر کا کچھ ابال نکال

ارشد عزیز

اپنے اندر کا کچھ ابال نکال

ارشد عزیز

MORE BY ارشد عزیز

    اپنے اندر کا کچھ ابال نکال

    اے سخنور نیا خیال نکال

    لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں

    چھوڑ کاغذ قلم کدال نکال

    تو بہت وقت لے چکا ہے مرا

    اب مرے روز و ماہ و سال نکال

    یا مری بات کا جواب بنا

    یا مرے ذہن سے سوال نکال

    دیکھتا ہوں میں تیری شیشہ گری

    چل ذرا آئنے سے بال نکال

    جوڑ آئندہ کو گزشتہ سے

    اور اس میں سے میرا حال نکال

    اس کو چون و چرا پسند نہیں ہے

    اپنی باتوں سے قیل و قال نکال

    میں ترے سامنے پڑا ہوا ہوں

    آئنے میرے خد و خال نکال

    تو تو کہتا تھا سینکڑوں ہیں عزیزؔ

    چل کوئی ایک ہی نکال نکال

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY