اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

ظفر حمیدی

اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

ظفر حمیدی

MORE BYظفر حمیدی

    اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو

    چلتے رہو منزل کو نایاب ہی رہنے دو

    تحفے میں انوکھا زخم حالات نے بخشا ہے

    احساس کا خوں دے کر شاداب ہی رہنے دو

    وہ ہاتھ میں آتا ہے اور ہاتھ نہیں آتا

    سیماب صفت پیکر سیماب ہی رہنے دو

    گہرائی میں خطروں کا امکاں تو زیادہ ہے

    دریائے تعلق کو پایاب ہی رہنے دو

    یہ مجھ پہ کرم ہوگا حصے میں مرے اے دوست

    اخلاص و مروت کے آداب ہی رہنے دو

    ابہام کا پردہ ہے تشکیک کا ہے عالم

    تم ذوق تجسس کو بیتاب ہی رہنے دو

    مت جاؤ قریب اس کے تم ایک گہن بن کر

    آنگن میں اسے اپنا مہتاب ہی رہنے دو

    جب تک وہ نہیں آتا اک خواب حسیں ہو کر

    تم اپنے شبستاں کو بے خواب ہی رہنے دو

    وہ برف کا تودہ یا پتھر نہیں بن جائے

    ہر قطرۂ اشک غم سیلاب ہی رہنے دو

    وہ بحر فنا میں خود ڈوبا ہے تو اچھا ہے

    فی الحال ظفرؔ اس کو غرقاب ہی رہنے دو

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اپنے دل مضطر کو بیتاب ہی رہنے دو نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY