اپنی ہر بات زمانے سے چھپانی پڑی تھی

ممتاز گورمانی

اپنی ہر بات زمانے سے چھپانی پڑی تھی

ممتاز گورمانی

MORE BY ممتاز گورمانی

    اپنی ہر بات زمانے سے چھپانی پڑی تھی

    پھر بھی جس آنکھ میں دیکھا تو کہانی پڑی تھی

    میں نے کچھ رنگ چرائے تھے کسی تتلی کے

    اور پھر عمر حفاظت میں بتانی پڑی تھی

    کل کسی عشق کے بیمار پہ دم کرنا تھا

    پیر کامل کو غزل میری سنانی پڑی تھی

    کوچۂ عشق سے ناکام پلٹنے والے

    تو نے دیکھا تھا وہاں میری جوانی پڑی تھی

    دل نہ سہہ پایا کسی اور سے قربت اس کی

    مجھ کو دیوار سے تصویر ہٹانی پڑی تھی

    میں بہت جلد بڑھاپے میں چلا آیا تھا

    بن ترے عمر کی رفتار بڑھانی پڑی تھی

    اس کی حسرت کا بدن برف نہ ہو جائے کہیں

    اپنے سینے میں مجھے آگ لگانی پڑی تھی

    تیرے ممتازؔ کو غم موت کا بس اس لیے ہے

    اپنے بالوں میں تجھے خاک روانی پڑی تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY