اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا

ماہر عبدالحی

اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    اپنی خطا کو اس نے مرے نام لکھ دیا

    اس پر کمال یہ کہ سر عام لکھ دیا

    اندھوں کے درمیان رہوں آئنہ مثال

    میرے لئے خدا نے عجب کام لکھ دیا

    ناراض ہے وہ مجھ سے بس اتنی سی بات پر

    تیرہ شبی کو دن نہ لکھا شام لکھ دیا

    کچھ بن پڑا نہ حسرت تعمیر سے تو پھر

    اجڑے ہوئے کھنڈر کو در و بام لکھ دیا

    جب تیرگی بڑھے گی تو چمکے گا اور بھی

    دل کے لہو سے ہم نے ترا نام لکھ دیا

    کہتے ہیں کس کو صبر و تحمل یہ ہم سے پوچھ

    تکلیف جو ملی اسے آرام لکھ دیا

    یہ بھی ہوا کہ جس نے اجاڑے تھے گھر کے گھر

    منصف نے اس کو لائق انعام لکھ دیا

    چاہی تھی میں نے جس کی بھلائی تمام عمر

    اس نے مری دعاؤں کو دشنام لکھ دیا

    کوئی تو بات ہوگی کہ اہل نگاہ نے

    جتنے ثمر تھے پختہ انہیں خام لکھ دیا

    اب واسطہ پڑا ہے تو ماہرؔ کھلا یہ راز

    پتھر بدن کو ہم نے گل اندام لکھ دیا

    مآخذ :
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 155)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY