اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے

شبنم رومانی

اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے

شبنم رومانی

MORE BYشبنم رومانی

    اپنی مجبوری کو ہم دیوار و در کہنے لگے

    قید کا ساماں کیا اور اس کو گھر کہنے لگے

    درج ہے تاریخ وصل و ہجر اک اک شاخ پر

    بات جو ہم تم نہ کہہ پائے شجر کہنے لگے

    خوف تنہائی دکھاتا تھا عجب شکلیں سو ہم

    اپنے سائے ہی کو اپنا ہم سفر کہنے لگے

    بستیوں کو بانٹنے والا جو خط کھینچا گیا

    خط کشیدہ لوگ اس کو رہگزر کہنے لگے

    اول اول دوستوں پر ناز تھا کیا کیا ہمیں

    آخر آخر دشمنوں کو معتبر کہنے لگے

    دیکھتے ہیں گھر کے روزن سے جو نیلا آسماں

    وہ بھی اپنے آپ کو اہل نظر کہنے لگے

    مأخذ :
    • کتاب : Ghazal Calendar-2015 (Pg. 23.07.2015)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY