اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے

شہزاد احمد

اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے

شہزاد احمد

MORE BY شہزاد احمد

    اپنی تصویر کو آنکھوں سے لگاتا کیا ہے

    اک نظر میری طرف بھی ترا جاتا کیا ہے

    میری رسوائی میں وہ بھی ہیں برابر کے شریک

    میرے قصے مرے یاروں کو سناتا کیا ہے

    پاس رہ کر بھی نہ پہچان سکا تو مجھ کو

    دور سے دیکھ کے اب ہاتھ ہلاتا کیا ہے

    ذہن کے پردوں پہ منزل کے ہیولے نہ بنا

    غور سے دیکھتا جا راہ میں آتا کیا ہے

    زخم دل جرم نہیں توڑ بھی دے مہر سکوت

    جو تجھے جانتے ہیں ان سے چھپاتا کیا ہے

    سفر شوق میں کیوں کانپتے ہیں پاؤں ترے

    آنکھ رکھتا ہے تو پھر آنکھ چراتا کیا ہے

    عمر بھر اپنے گریباں سے الجھنے والے

    تو مجھے میرے ہی سائے سے ڈراتا کیا ہے

    چاندنی دیکھ کے چہرے کو چھپانے والے

    دھوپ میں بیٹھ کے اب بال سکھاتا کیا ہے

    مر گئے پیاس کے مارے تو اٹھا ابر کرم

    بجھ گئی بزم تو اب شمع جلاتا کیا ہے

    میں ترا کچھ بھی نہیں ہوں مگر اتنا تو بتا

    دیکھ کر مجھ کو ترے ذہن میں آتا کیا ہے

    تیرا احساس ذرا سا تری ہستی پایاب

    تو سمندر کی طرح شور مچاتا کیا ہے

    تجھ میں کس بل ہے تو دنیا کو بہا کر لے جا

    چائے کی پیالی میں طوفان اٹھاتا کیا ہے

    تیری آواز کا جادو نہ چلے گا ان پر

    جاگنے والوں کو شہزادؔ جگاتا کیا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    Sonu Kakkar

    Sonu Kakkar

    رنجیت رجواڑا

    رنجیت رجواڑا

    مآخذ:

    • کتاب : Deewar pe dastak (Pg. 405)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY