اپنوں ہی پہ ہوتی ہے ہر مشق جفا پہلے

شوق اثر رامپوری

اپنوں ہی پہ ہوتی ہے ہر مشق جفا پہلے

شوق اثر رامپوری

MORE BYشوق اثر رامپوری

    اپنوں ہی پہ ہوتی ہے ہر مشق جفا پہلے

    کی چاک بہاروں نے پھولوں کی قبا پہلے

    اس کے لئے اٹھے تھے گو دست دعا پہلے

    بیمار کی قسمت سے آ پہنچی قضا پہلے

    اب ان کی جفاؤں کا کیوں دہر سے شکوہ ہے

    ڈالی تھی ہمیں نے تو بنیاد وفا پہلے

    محسوس یہ ہوتا ہے جیسے کبھی دیکھا ہو

    اے دوست مگر تجھ کو دیکھا تو نہ تھا پہلے

    بیمار محبت کے انداز بتاتے ہیں

    تدبیر و دوا آخر تقدیر و دعا پہلے

    کیا فکر ہے دیوانے مل جائیں گے پھر وہ بھی

    تو چاک گریباں کو دامن سے ملا پہلے

    شوقؔ اس کے تجسس میں یہ حال بھی گزرا ہے

    پوچھا ہے زمانے سے اپنا ہی پتا پہلے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY