عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے

بیتاب عظیم آبادی

عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے

بیتاب عظیم آبادی

MORE BYبیتاب عظیم آبادی

    عقل دوڑائی بہت کچھ تو گماں تک پہنچے

    کچھ حقیقت بھی ہے انساں کی کہاں تک پہنچے

    عشق کے شعلے بھڑک کر رگ جاں تک پہنچے

    آگ سی آگ ہے یہ آگ جہاں تک پہنچے

    لڑ گئی ان سے نظر کھچ گئے ابرو ان کے

    معرکے عشق کے اب تیر و کماں تک پہنچے

    دل سے باہر ہو ترا راز گوارا ہے کسے

    یہ کوئی بات نہیں ہے کہ زباں تک پہنچے

    مار لے وہ نگۂ ناز تو رتبہ ہو بلند

    سر ہو اونچا مرا گر نوک سناں تک پہنچے

    کوئی دیوانگئ عشق کا قصہ چھیڑے

    سلسلہ اس کا خدا جانے کہاں تک پہنچے

    سرخیٔ خار بیاباں یہ پتہ دیتی ہے

    کہ ادھر سے ترے دیوانے یہاں تک پہنچے

    رند پر کیف بہ یک گردش چشم ساقی

    غایت دائرۂ کون و مکاں تک پہنچے

    رخ سے پردہ کو ہٹا حسن یقیں تک پہنچا

    آخر انسان ہوں یوں عقل کہاں تک پہنچے

    راہ میں اور بھی دیوانوں سے ملتے جلتے

    پوچھتے پوچھتے ہم ان کے مکاں تک پہنچے

    شربت‌ دید نہ ہو تیغ کا پانی ہی سہی

    کوئی ٹھنڈک تو مرے قلب تپاں تک پہنچے

    لے گئے عشق کی بازی پہ صفائی بیتابؔ

    جان پر کھیل گئے جان جہاں تک پہنچے

    مأخذ :
    • کتاب : Noquush (Pg. B-392 E402)
    • مطبع : Nuqoosh Press Lahore (May June 1954)
    • اشاعت : May June 1954

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY