عقل نے لاکھ اندھیروں میں چھپایا ہے تجھے

نور بجنوری

عقل نے لاکھ اندھیروں میں چھپایا ہے تجھے

نور بجنوری

MORE BYنور بجنوری

    عقل نے لاکھ اندھیروں میں چھپایا ہے تجھے

    میرا وجدان مگر چوم کے آیا ہے تجھے

    وہ طلسمات نظر آئے کہ دیکھے نہ سنے

    جب بھی آنکھوں کے چراغوں میں جلایا ہے تجھے

    رات بھیگی ہے تو چھیڑا ہے ترے درد کا ساز

    چاند نکلا ہے تو چپکے سے جگایا ہے تجھے

    میں تو کیا وقت بھی اب چھو نہ سکے گا تجھ کو

    عشق نے مسند یزداں پہ بٹھایا ہے تجھے

    وہ ترا حسن کہ خیرہ تھی زمانے کی نظر

    یہ مرا فن کہ ترا عکس دکھایا ہے تجھے

    آج بھی ذہن میں بجلی سی چمک اٹھتی ہے

    کون بھولا ہے تجھے کس نے بھلایا ہے تجھے

    جگمگاتی ہے مری روح تو میں سوچتا ہوں

    میں نے کھویا ہے مری جان کہ پایا ہے تجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY