عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

محسن نقوی

عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

محسن نقوی

MORE BYمحسن نقوی

    عذاب دید میں آنکھیں لہو لہو کر کے

    میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے

    کھنڈر کی تہ سے بریدہ بدن سروں کے سوا

    ملا نہ کچھ بھی خزانوں کی آرزو کر کے

    سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے

    چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے

    مسافت شب ہجراں کے بعد بھید کھلا

    ہوا دکھی ہے چراغوں کی آبرو کر کے

    زمیں کی پیاس اسی کے لہو کو چاٹ گئی

    وہ خوش ہوا تھا سمندر کو آب جو کر کے

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا

    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    جلوس اہل وفا کس کے در پہ پہنچا ہے

    نشان‌ طوق وفا زینت گلو کر کے

    اجاڑ رت کو گلابی بنائے رکھتی ہے

    ہماری آنکھ تری دید سے وضو کر کے

    کوئی تو حبس ہوا سے یہ پوچھتا محسنؔ

    ملا ہے کیا اسے کلیوں کو بے نمو کر کے

    مآخذ
    • کتاب : Kulliyat-e-mohsin (Pg. 728)
    • Author : Mohsin Naqvi
    • مطبع : Mavra Publishers (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY