عذاب ہجر بھی ہے راحت وصال کے ساتھ

شاذ تمکنت

عذاب ہجر بھی ہے راحت وصال کے ساتھ

شاذ تمکنت

MORE BYشاذ تمکنت

    عذاب ہجر بھی ہے راحت وصال کے ساتھ

    ملی تو ہیں مجھے خوشیاں مگر ملال کے ساتھ

    تمہاری یاد میں بھی ضبط‌‌ و اعتدال کہاں

    میں تم سے کیسے ملوں ضبط و اعتدال کے ساتھ

    یہی بہت ہے زمانہ میں چار دن کے لئے

    اگر حیات کٹے ایک ہم خیال کے ساتھ

    کچھ اس طرح شب مہ نے کرن کی دستک دی

    ابھر گئیں کئی چوٹیں کسی خیال کے ساتھ

    افق نہیں تو کسی چاند کا تصور کیا

    ستارے ڈوب گئے درد کے زوال کے ساتھ

    شفق گلال کلی چاندنی الاپ سحر

    نظر کے سامنے آئے تری مثال کے ساتھ

    بھٹک رہا ہوں کہ فردا کا راستہ گم ہے

    قدم قدم مرا ماضی ہے میرے حال کے ساتھ

    اسے سنوں کہ اسے دیکھتا رہوں اے شاذؔ

    جمال نغمہ بھی ہے نغمہ جمال کے ساتھ

    مأخذ :
    • کتاب : Kulliyat-e-Shaz Tamkanat (Pg. 421)
    • Author : Shaz Tamkanat
    • مطبع : Educational Publishing House (2004)
    • اشاعت : 2004

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY