بہ ہر صورت ٹھہر جانا پڑے گا

جرم محمد آبادی

بہ ہر صورت ٹھہر جانا پڑے گا

جرم محمد آبادی

MORE BYجرم محمد آبادی

    بہ ہر صورت ٹھہر جانا پڑے گا

    اگر رستے میں مے خانہ پڑے گا

    محبت میں سکون دل کی خاطر

    کسی دن زہر بھی کھانا پڑے گا

    ابھی منزل کہاں اے ذوق منزل

    ابھی تو منزلوں جانا پڑے گا

    نہ پوچھو مجھ سے وجہ بے قراری

    بھری محفل میں شرمانا پڑے گا

    کہاں جاؤں میں تیرے در سے اٹھ کر

    پلٹ کر پھر یہیں آنا پڑے گا

    یہی پر لطف الفت ہو تو پختہ

    سراپا درد بن جانا پڑے گا

    ہیں کیا دیر و حرم ان کی طلب میں

    خدا جانے کہاں جانا پڑے گا

    تمنائے وفاداری سلامت

    انہیں بھی ہاتھ پھیلانا پڑے گا

    جوانی آبروئے زندگی ہے

    یہ دولت کھو کے پچھتانا پڑے گا

    سمجھ لو جرمؔ دستور محبت

    زمانے بھر کو سمجھانا پڑے گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY