بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسے

جاوید نسیمی

بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسے

جاوید نسیمی

MORE BYجاوید نسیمی

    بعد مدت کے تری یاد کے بادل برسے

    وہ بھی ایسے کہ کئی روز مسلسل برسے

    منتظر اور بھی صحرا ہیں اسی بادل کے

    صرف تجھ پر ہی بھلا کیسے یہ ہر پل برسے

    پیاس اس شہر کی بجھنے کا یہی رستہ ہے

    بن کے بادل کسی درویش کی چھاگل برسے

    لگ گئی کس کی نظر شہر نگاراں کو مرے

    اب تو ہر شام یہاں وحشت مقتل برسے

    کب کی پیاسی ہے زمیں یہ بھی نظر میں رکھے

    کہہ دو بادل سے ذرا دیر مسلسل برسے

    لب کشا ہو کہ مہک اٹھے فضا کا یہ سکوت

    منتظر کب سے سماعت ہے کہ صندل برسے

    مآخذ
    • کتاب : Khwab Aasmano ke (Pg. 69)
    • Author : Javed Nasimi
    • مطبع : Educational Publishing House (2014)
    • اشاعت : 2014

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY