بانیٔ شہر ستم مظلوم کیسے ہو گیا

قاسم جلال

بانیٔ شہر ستم مظلوم کیسے ہو گیا

قاسم جلال

MORE BYقاسم جلال

    بانیٔ شہر ستم مظلوم کیسے ہو گیا

    کل جو مجرم تھا وہ اب معصوم کیسے ہو گیا

    محتسب سچ سچ بتا خلوت میں کیا سودا ہوا

    مدعی انصاف سے محروم کیسے ہو گیا

    طائر آزاد زیر دام کیسے آ گیا

    وہ خیال‌ منتشر منظوم کیسے ہو گیا

    کیوں شرافت کو حماقت کا دیا لوگوں نے نام

    فتنۂ شر خیر سے موسوم کیسے ہو گیا

    کس طرح اہل جنوں اہل خرد سمجھے گئے

    عقل کا دیوانگی مفہوم کیسے ہو گیا

    مجھ سے ملنا تو تجھے مشکل تھا اے مطلب کے یار

    اب مرے گھر کا پتہ معلوم کیسے ہو گیا

    کیا ہیں اسباب زوال مسلم آشفتہ حال

    کل جو حاکم تھا وہ اب محکوم کیسے ہو گیا

    جو یہ کہتا تھا کہ میں ہوں اک نشان لا زوال

    نقش فانی کی طرح معدوم کیسے ہو گیا

    بول اے تائب مٹا نقش سویدا کس طرح

    لوح دل پر لفظ حق مرقوم کیسے ہو گیا

    قوم کا قاعد ہے وہ جو اس کا خدمت گار ہے

    جس نے خدمت ہی نہ کی مخدوم کیسے ہو گیا

    بھر دیئے اوہام کس نے ذہن ملت میں جلالؔ

    چشمۂ آب بقا مسموم کیسے ہو گیا

    مآخذ :
    • کتاب : Urdu Adab (Pg. 54)
    • Author : Iqbal Hussain
    • مطبع : Iqbal Hussain Publishers (Jan, Feb. Mar 1996)
    • اشاعت : Jan, Feb. Mar 1996

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY