باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے

عزیز نبیل

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے

عزیز نبیل

MORE BYعزیز نبیل

    باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے

    سب باتیں پھولوں جیسی ہیں، آواز مدھر شہنائی ہے

    یہ بوندیں پہلی بارش کی، یہ سوندھی خوشبو ماٹی کی

    اک کوئل باغ میں کوکی ہے، آواز یہاں تک آئی ہے

    بدنام بہت ہے راہگزر، خاموش نظر، بے چین سفر

    اب گرد جمی ہے آنکھوں میں اور دور تلک رسوائی ہے

    دل ایک مسافر ہے بے بس، جسے نوچ رہے ہیں پیش و پس

    اک دریا پیچھے بہتا ہے اور آگے گہری کھائی ہے

    اب خواب نہیں کمخواب نہیں، کچھ جینے کے اسباب نہیں

    اب خواہش کے تالاب پہ ہر سو مایوسی کی کائی ہے

    پہلے کبھی محفل جمتی تھی محفل میں کہیں تم ہوتے تھے

    اب کچھ بھی نہیں یادوں کے سوا، بس میں ہوں مری تنہائی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY