بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی

خورشید طلب

بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی

خورشید طلب

MORE BYخورشید طلب

    بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی

    نہ ہو سکا مرا اس سے لپٹ کے رونا بھی

    فصیلیں چھونے لگی ہیں اب آسمانوں کو

    عجب ہے ایک دریچے کا بند ہونا بھی

    نہ کوئی خواب ہے آنکھوں میں اب نہ بیداری

    ترے سبب تھا مرا جاگنا بھی سونا بھی

    ترے فقیر کو اتنی سی جا بھی کافی ہے

    جو تیرے دل میں نکل آئے ایک کونا بھی

    یہ کم نہیں جو میسر ہے زندگی سے مجھے

    کبھی کبھار کا ہنسنا اداس ہونا بھی

    ترا گزارنا ہموار راستوں سے ہمیں

    ہمارے پاؤں میں کانٹے کبھی چبھونا بھی

    چلا گیا کوئی آنکھوں میں گرد اڑاتا ہوا

    نہ کام آیا کوئی ٹوٹکا نہ ٹونا بھی

    طلبؔ بڑی ہی اذیت کا کام ہوتا ہے

    بکھرتے ٹوٹتے رشتوں کا بوجھ ڈھونا بھی

    RECITATIONS

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    خورشید طلب

    بڑا عجیب تھا اس کا وداع ہونا بھی خورشید طلب

    مآخذ :
    • کتاب : Jahaan Gard (Pg. 28)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY