بڑھتی جاتی ہے پیاس آنکھوں کی

علی قیصر

بڑھتی جاتی ہے پیاس آنکھوں کی

علی قیصر

MORE BYعلی قیصر

    بڑھتی جاتی ہے پیاس آنکھوں کی

    بات سمجھو اداس آنکھوں کی

    اک اشارا ہے مست نظروں کا

    اک نشانی ہے خاص آنکھوں کی

    تیرے چھالے مجھے بتاتے ہیں

    تو نے چکھ لی مٹھاس آنکھوں کی

    سب کو ہر وقت گھورتی ہیں یہ

    کوئی تو لے کلاس آنکھوں کی

    اشک ریزی میں کرتا رہتا ہوں

    تاکہ نکلے بھڑاس آنکھوں کی

    تم ذرا اس طرف نگاہ کرو

    لو سنبھالے گا داس آنکھوں کی

    ماں کی بینائی بجھ گئی لیکن

    ٹوٹتی کب ہے آس آنکھوں کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY