بڑی فرض آشنا ہے صبا کرے خوب کام حساب کا

انجم عرفانی

بڑی فرض آشنا ہے صبا کرے خوب کام حساب کا

انجم عرفانی

MORE BYانجم عرفانی

    بڑی فرض آشنا ہے صبا کرے خوب کام حساب کا

    پھر اڑا کے لے گئی اک ورق مری زندگی کی کتاب کا

    کہوں کیا کہ دشت حیات میں رہا سلسلہ وہ سراب کا

    کبھی حوصلہ ہی نہ کر سکی مری آنکھ دریا کے خواب کا

    نہ عطائے دختر رز ہے یہ نہ ہے فیض ساقیٔ مے نفس

    جو چڑھے تو پھر نہ اتر سکے یہ نشہ ہے فن کی شراب کا

    سر راہ مل کے بچھڑ گئے تھا بس ایک پل کا وہ حادثہ

    مرے صحن دل میں مقیم ہے وہی ایک لمحہ عذاب کا

    مرے ساتھ ساتھ سفر میں ہے مرے گھر کی ساری ہماہمی

    سرگوش قہقہے رس بھرے سردوش پھول گلاب کا

    دو فرشتہ دست بلا لیے دو چھلکتے جام تکا کئے

    مرے ہم رکاب وہ موج گل وہی سیل چشم پر آب کا

    میں اگرچہ کر بھی چکا رقم ادھر ایک دفتر رنج و غم

    مگر انتظار ہے دم بہ دم مجھے پہلے خط کے جواب کا

    یہ جو میرے ساغر دل میں ہے مے فن ہے خوں کی کشید ہے

    یہی ایک عمر کا ماحصل یہی توشہ خانہ خراب کا

    ذرا سوچ انجمؔ ناتواں یہ وفا کا ذکر کہاں کہاں

    سر بزم کر نہ اسے بیاں یہ سبق ہے صرف نصاب کا

    مأخذ :
    • کتاب : libaas-e-zakhm (Pg. 44)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY