بغیر یار گوارا نہیں کباب شراب

امداد علی بحر

بغیر یار گوارا نہیں کباب شراب

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    بغیر یار گوارا نہیں کباب شراب

    گزک ہے داغ مجھے اور خون ناب شراب

    اگر ہے شوق طہارت شراب پی زاہد

    ترے نجاست قلبی کو ہوگی آب شراب

    دماغ اہل خرابات کے معطر ہیں

    کباب نافۂ مشک ختن گلاب شراب

    پیوں نجات سمجھ کے جو عشق ساقی ہے

    درود پڑھ کے تپاؤں پئے ثواب شراب

    بغیر سکر ہوا ہے یہ عالم سکرات

    ہمارے منہ میں چواؤ بجائے آب شراب

    چمن پہ جھوم رہا ہے سیاہ مستی میں

    عجب بہار ہے برسائے جو سحاب شراب

    شب وصال ہے انجم کھلائیں نقل مجھے

    پلائے اپنے پیالے میں ماہتاب شراب

    بہت مذمت مے خوار لکھ رہا ہے شیخ

    خدا کرے کہ بنے جدول کتاب شراب

    چلے بہار کے ایام ساقیٔ گل رو

    مرا شباب ہے مہمان لا شتاب شراب

    کوئی گزک گزک حسن سے نہیں اعلیٰ

    شرابوں میں ہے مئے عشق انتخاب شراب

    ہے نور نشا ضیا بخش دیدۂ عرفاں

    در یگانۂ دل کی ہے آب و تاب شراب

    خدا کے گھر میں وہ برا رہا ہے اے رندو

    جگاؤ شیخ کو چھڑکو بہ روئے خواب شراب

    نہ دیکھے بغض سے مانند شپرک زاہد

    ہے اپنے نور سے ہم جام آفتاب شراب

    نشاط و عیش جہاں پر نہ بحرؔ لہرانا

    کہ باغ سبز گلستان ہے سراب شراب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY